جنگلات کی وزارت نے ماحولیاتی معیارات کی تعمیل کی جانچ کے لیے بنگلورو کی ایک بڑی آلودگی جانچ لیبارٹری میں ہنگامی معائنہ ٹیم روانہ کی۔ معائنے کے دوران ٹیم نے کئی سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی، جن میں آلات کی مناسب کیلیبریشن کا فقدان، ٹیسٹ رپورٹس میں اعداد و شمار میں ردوبدل، اور ایسے نتائج پیش کرنا شامل تھا جو تسلیم شدہ معیارات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔
لیبارٹری کے مینیجر اور تکنیکی عملے کے بیانات کے مطابق، بجٹ کی کمی اور عملے کی قلت کی وجہ سے یہ خامیاں پیدا ہوئیں۔ تاہم، معائنہ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ کئی معاملات میں صنعتوں کے حق میں نتائج ظاہر کرنے کے لیے اعداد و شمار میں جان بوجھ کر تبدیلی کی گئی تھی۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب متعدد ماحولیاتی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) نے بنگلورو کی ہوا اور پانی کے معیار میں مسلسل کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے لیبارٹری کی رپورٹس کی ساکھ پر سوال اٹھائے۔
جنگلات کے وزیر نے اس تحقیقات کو "ماحولیاتی نگرانی کے نظام میں شفافیت اور جواب دہی یقینی بنانے کے لیے ایک ضروری قدم" قرار دیا اور کہا کہ مزید تحقیقات میں ذمہ دار عملے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے مستقبل میں ایسی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے لیبارٹریوں کے باقاعدہ آڈٹ اور تکنیکی اپ گریڈیشن کے لیے قومی سطح پر ایک ٹاسک فورس تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی۔
لیبارٹری پر عائد پابندیوں کے بعد، ریاستی حکومت نے متبادل اور آزاد جانچ کی سہولیات کا فوری انتظام کرنے کا حکم دیا ہے اور تمام موجودہ اعداد و شمار کی دوبارہ تصدیق کے لیے ایک جامع جائزہ عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے بلکہ صنعتوں کو سخت ماحولیاتی معیارات کی پابندی کرنے پر بھی مجبور کرنا ہے۔
