نئی دہلی میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کے ایک سیشن میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے برازیل، روس، چین، جنوبی افریقہ اور بھارت کے اعلیٰ نمائندوں کا استقبال کیا۔ اس موقع پر تمام رہنماؤں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا انتخاب خاص طور پر کیا گیا، کیونکہ یہ ملاقات بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے رام ناتھ سوامی مندر کے درشن کے سامنے ہوئی، جو اپنی قدیم فنِ تعمیر اور مذہبی اہمیت کے باعث عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ اس پس منظر میں ہونے والی ملاقات نے ثقافتی مکالمے کو فروغ دیا اور بھارت کے تنوع اور روحانی ورثے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا۔
ملاقات میں برکس ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، تکنیکی شراکت داری اور پائیدار ترقی کے امور پر تبادلۂ خیال ہوا۔ اہم ایجنڈے میں سپلائی چین کی سلامتی، توانائی کی منتقلی، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ اور عوامی صحت کے اقدامات شامل تھے۔ بھارت نے اپنی "سب کا ساتھ، سب کا وکاس" پالیسی کے تحت مختلف شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، جبکہ تمام فریقوں نے موجودہ عالمی چیلنجز کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کی ثقافتی و سیاسی نشست نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرتی ہے بلکہ برکس گروپ کے اندر بھارت کے بڑھتے ہوئے بااثر کردار کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ رام ناتھ سوامی مندر کی پاکیزگی اور تاریخی اہمیت نے اس ملاقات کو خاص اہمیت دی، جس سے یہ سربراہی اجلاس محض اقتصادی معاہدوں تک محدود نہ رہ کر ثقافتی مفاہمت اور باہمی احترام کی سمت میں ایک اہم قدم بن گیا۔
