سرکاری دستاویزات اور ویڈیو ثبوت کے ساتھ پونگولیٹی نے حال ہی میں 22-A کے نام سے معروف متنازعہ معاملے میں بی آر ایس (بہار راشٹریہ سبھا) اور بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا۔ یہ معاملہ بنیادی طور پر سرکاری اراضی کی تقسیم سے متعلق ہے، جس میں گزشتہ چند ماہ کے دوران دونوں جماعتوں نے الزام عائد کیا تھا کہ پونگولیٹی نے اس عمل میں بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کا ارتکاب کیا۔
پونگولیٹی نے جواب دیتے ہوئے سرکاری ریکارڈ، اراضی کے رجسٹر اور متعلقہ محکمہ جاتی احکامات کو عام کیا اور کہا کہ تمام کارروائیاں مقررہ ضوابط کے مطابق کی گئی ہیں اور کسی قسم کی بے ضابطگی نہیں ہوئی۔
اس کے علاوہ، انہوں نے ایک تفصیلی ویڈیو بھی پیش کی، جس میں اراضی کی منتقلی کا عمل، متعلقہ حکام کی رضامندی اور مقامی آبادی کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو واضح طور پر دکھایا گیا ہے۔
پونگولیٹی کے جواب کے بعد سیاسی مبصرین اور سماجی کارکنوں کے درمیان وسیع بحث چھڑ گئی ہے۔ کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کے ثبوت پیش کرنے سے نہ صرف سیاسی سطح پر ان کی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے بلکہ عوامی انتظامیہ میں شفافیت کے مطالبات کو بھی تقویت ملتی ہے۔
دوسری جانب، بی آر ایس اور بی جے پی نے ابھی تک ان نئی معلومات کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے اور مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دریں اثنا، مقامی انتظامیہ نے کہا ہے کہ غیر جانب دارانہ فیصلہ یقینی بنانے کے لیے دستیاب تمام دستاویزات اور شواہد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا جائے گا۔
اس اقدام کو ریاست میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کرنے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
